china-offers-europe-alternative-to-trump-board-of-peace

 صدر شی جن پنگ کا بڑا داؤ: کیا چین یورپ کو امریکہ سے دور کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟

چینی صدر شی جن پنگ نے یورپی ممالک کو ڈونلڈ ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسیوں کے خلاف اکٹھا کرنے کے لیے بڑی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک طرف بیجنگ میں یورپی رہنماؤں کا تانتا بندھا ہے، تو دوسری طرف ٹرمپ نے کینیڈا جیسے قریبی اتحادیوں پر 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی دے دی ہے......۔




عالمی سیاست کے اسٹیج پر اس وقت ایک دلچسپ کھینچا تانی جاری ہے جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سرد جنگ جیسے حالات کا فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی بساط بچھا دی ہے۔ صدر شی نے حال ہی میں یورپی رہنماؤں کو نئی تجارتی شراکت داریوں اور اقوام متحدہ کے وضع کردہ عالمی اصولوں کی پاسداری کا یقین دلا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ چین ایک قابل بھروسہ ساتھی ہے، جبکہ دوسری جانب ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسیوں نے براعظم یورپ کو دفاعی اور معاشی طور پر عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ اس سفارتی مہم کا اثر اس وقت واضح نظر آیا جب برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور فن لینڈ کے وزیر اعظم پیٹری اورپو یکے بعد دیگرے بیجنگ پہنچے۔ فن لینڈ کے وزیر اعظم سے ملاقات میں صدر شی نے انتہائی معنی خیز انداز میں کہا کہ چین اور یورپ ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں، اور انہوں نے فن لینڈ کی کمپنیوں کو چینی مارکیٹ کے "وسیع سمندر" میں غوطہ لگانے کی دعوت دی۔





چینی پروپیگنڈہ مشینری اور سرکاری میڈیا اس وقت بھرپور طریقے سے یہ بیانیہ فروخت کر رہے ہیں کہ واشنگٹن کی بلیک میلنگ اور ٹرمپ کے جارحانہ رویے کے سامنے یورپ کو اپنی "سٹریٹیجک خودمختاری" پر غور کرنا چاہیے۔ چائنا ڈیلی جیسے اخبارات نے یورپی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی نظر میں اتحادی ہونے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، خاص طور پر گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی دباؤ اور تجارتی ٹیرف کی دھمکیوں کے بعد یورپ کو اپنے مفادات کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ کینیڈا نے اس سمت میں قدم بڑھاتے ہوئے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر سے ٹیرف ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے جواب میں ٹرمپ نے کینیڈین مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دے کر کینیڈا کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ یورپ اور کینیڈا جیسے "مڈل پاور" ممالک اس وقت دو سپر پاورز کی چکی کے پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔




ان تمام تر تجارتی پیشکشوں کے باوجود مغربی ممالک کے لیے چین پر مکمل بھروسہ کرنا آسان نہیں ہے، کیونکہ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ چینی ہیکرز نے برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ (نمبر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ) کے فون ہیک کیے تھے، جس نے سیکورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانیہ نے ایک طرف تو چینی "سپر ایمبیسی" کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے لیکن دوسری طرف جاسوسی کے ان پے در پے اسکینڈلز نے لندن اور بیجنگ کے درمیان اعتماد کی فضا کو دھندلا دیا ہے۔ ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے نئے تجارتی معاہدے پر بھی تنقید کی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اس وقت اپنے اتحادیوں کے ہر اس قدم کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے جو اس کے معاشی کنٹرول سے باہر ہو۔ صدر شی کی یہ حالیہ کوششیں درحقیقت ٹرمپ کے "نارمز توڑنے والے" سفارتی انداز کے خلاف ایک ایسا جال ہے جس کا مقصد یورپ کو امریکی اثر و رسوخ سے نکال کر بیجنگ کے معاشی مدار میں لانا ہے۔

Post a Comment

0 Comments