امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی برف پگھلنے لگی: فریم ورک معاہدے کی امید
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایک مجوزہ منصوبے پر بات چیت جاری ہے۔ عالمی سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو خطے میں استحکام کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان اب بھی کئی اہم مسائل پر اختلافات موجود ہیں۔
فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ اب تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جاری ہے۔ اس دوران ایران کے جوہری پروگرام، بالسٹک میزائلوں اور علاقائی تنازعات سمیت متعدد مسائل نے تناؤ میں اضافہ کیا۔ اپریل کے آغاز میں دونوں فریقوں نے ایک عارضی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو 7 اپریل سے نافذ العمل ہوئی اور 21 اپریل تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
امریکی انتظامیہ نے مارچ کے آخر میں پاکستان کے ذریعے ایران کو ایک 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، یورینیم افزودگی کی روک تھام، بالسٹک میزائل پروگرام کی معطلی، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور پابندیوں میں نرمی سمیت کئی اہم شقیں شامل ہیں۔ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دونوں ممالک کے درمیان کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، جبکہ ترکی اور دیگر علاقائی ممالک بھی سفارتی کوششوں میں شامل ہیں۔
اپریل کے وسط میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا ایک تاریخی دور ہوا۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جبکہ ایرانی فریق نے اپنے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں شرکت کی۔ 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے ان maratھن مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے ان کے بنیادی مطالبات، خاص طور پر جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی اور افزودگی کی مکمل روک تھام، قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ایرانی فریق نے الزام لگایا کہ امریکی مطالبات "حد سے زیادہ" ہیں اور وہ اپنے جوہری پروگرام کے پرامن استعمال کے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔
تاہم، مذاکرات کے مکمل خاتمے کے باوجود دونوں طرف سے مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کی طرف "پیش رفت" ہو رہی ہے اور اگلے دو دنوں میں ایران کے ساتھ نئے دور کی بات چیت ممکن ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ثالثی کو سراہا اور کہا کہ "کچھ اچھا ہو سکتا ہے"۔ ایرانی حکام نے بھی جنگ بندی کی توسیع اور مزید مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، دونوں ممالک ایک "فریم ورک معاہدے" کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں پہلے مرحلے میں جنگ بندی کی توسیع اور دوسرے مرحلے میں مستقل امن معاہدے پر بات چیت شامل ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی سپلائی متاثر کی تھی، جس کے بعد امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی لگا دی۔ حالیہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب کمرشل جہازوں کے لیے کھل چکی ہے، جو سفارتی پیش رفت کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت جاری رکھیں، کیونکہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان الگ جنگ بندی کی پیش رفت کو بھی امریکہ-ایران معاہدے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ اختلافات اب بھی گہرے ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام اور علاقائی سیکیورٹی کے مسائل پر، تاہم اقتصادی دباؤ، عالمی مارکیٹوں میں استحکام کی ضرورت اور دونوں فریقوں کی جنگ ختم کرنے کی خواہش کی وجہ سے مزید بات چیت کا امکان موجود ہے۔ اسلام آباد میں ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات سے پہلے ثالث ممالک مصروف ہیں کہ جنگ بندی کو مزید توسیع دی جائے اور ایک جامع معاہدے کی بنیاد رکھی جائے۔
یہ صورتحال خطے کے لیے نازک ہے، اور آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر فریقین نے لچک دکھائی تو مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے چل رہے تناؤ کا خاتمہ ممکن ہے، ورنہ دوبارہ تصادم کا خطرہ برقرار رہے گا۔ عالمی برادری امید کر رہی ہے کہ سفارت کاری فتح یاب ہو گی اور امن کی راہ ہموار ہو گی

0 Comments