what is BeiDou Navigation System?

 ایران،چین اور آسمان میں لڑی جانےوالی نئی ڈیجیٹل لڑائی۔۔۔




امریکہ نے ایران کےاندر عدم استحکام پیداکرنے کیلیے جدید ترین ڈیجیٹل حربوں کاسہارا لیا۔اس مقصد کے لیےایلون مسک کی اسٹار لنک سیٹلائٹس کو استعمال کیا گیا، تاکہ ایران کے اندر موجود مخصوص گروپس اور سائبر نیٹورکس کو براہِ راست انٹرنیٹ تک رسائی دی جاسکے۔۔
آسمان میں ہزاروں سیٹلائٹس پھیلا دی گئیں، جیسے زمین کے اوپر ایک غیر مرئی ڈیجیٹل جال بچھا دیا گیا ہو، جس کے ذریعے ایرانی نیٹ ورک کو بائی پاس کرکےویڈیوز،پیغامات اورسائبرسرگرمیاں جاری رکھی جاسکیں۔۔۔۔۔۔۔۔ایران نے اس صورتحال کا فوری جواب دیا۔۔
فریکوئنسی جیم کی گئیں،سگنلز دبانےکی کوشش کی گئی اور الیکٹرانک وارفیئر یونٹس کو الرٹ کردیا گیا۔ مگر ابتدائی3 دنوں میں، تمام تر کوششوں کےباوجود ایران صرف محدود حد تک ہی اسٹار لنک سگنلز کو متاثر کرسکا۔۔۔۔یہ نیٹ ورک ایک ایسے نظام کی طرح تھاجس میں ایک لنک ختم ہوتا تو دوسرافوراً متحرک ہو جاتا۔۔۔۔۔۔۔اور امریکی ڈیجیٹل سپورٹ بدستور قائم رہی۔۔
لیکن اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پردے کے پیچھےایک اور طاقت خاموشی سےسرگرم تھی۔ ایک ایسی ریاست۔۔۔۔۔۔۔۔جو برسوں سے الیکٹرانک وارفیئر، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کنٹرول میں مہارت حاصل کرچکی ہے۔یہ طاقت چین تھی، جو اس جدید جنگ میں ایک غیر علانیہ مگر فیصلہ کن کردار ادا کر رہی تھی۔۔
چین کے پاس موجود BeiDou Navigation Satellite System محضGPS کا متبادل نہیں،بلکہ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو الیکٹرانک وارفیئر، سگنل جیمنگ اور کاؤنٹر جیمنگ میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی نظام کے ذریعے فریکوئنسی پیٹرنز کا تجزیہ کیاگیا،اسٹار لنک سیٹلائٹس کےمدار اور سگنلز کو ٹریس کیا گیا، اور ایران کو وہ تکنیکی مدد فراہم کی گئی جس نے پورا منظرنامہ بدل دیا۔۔
یہی وجہ تھی کہ حالیہ اسرائیل اور ایران جنگ میں جن ایرانی میزائل سسٹمز نے ابتدائی دو دنوں میں مؤثر کارکردگی نہیں دکھائی،بعد میں وہ اچانک پوری درستگی کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنانے لگے۔۔۔یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ سیٹلائٹ گائیڈنس، الیکٹرانک سپورٹ اور ڈیجیٹل کاؤنٹر میژرز کا براہِ راست نتیجہ تھا۔۔
چند ہی لمحوں میں صورتحال پلٹ گئی۔ایران میں نہ صرف متبادل نیٹورکس مضبوط ہوئے بلکہ اسٹار لنک کے ہزاروں سیٹلائٹس کے سگنلز بھی غیر مستحکم ہونے لگے۔ وہ نیٹ ورک جو ناقابلِ شکست سمجھا جا رہا تھا، آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگا۔ لائیو کنکشن منقطع ہو گئے، سائبر چینلز بند ہونےلگےاور آسمان سے آنے والی ڈیجیٹل سپلائی رکتی چلی گئی۔۔
دنیاکو اس وقت احساس ہواکہ جدید جنگ اب صرف زمین، فضا یا سمندر تک محدود نہیں رہی۔ اصل جنگ اب فریکوئنسیوں، سیٹلائٹس اور ڈیجیٹل لہروں پر لڑی جا رہی ہے۔ اور اس میدان میں وہی طاقت برتری حاصل کرتی ہےجو خاموشی سے،بغیراعلان کے، پورے توازن کو اپنےحق میں موڑنےکی صلاحیت رکھتی ہو۔

Post a Comment

0 Comments