ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی، ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اب بھی امید ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے بچا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے تہران کو واضح وارننگ دی ہے کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے بارے میں ایک دستاویزی فلم کے پریمیئر کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکہ کا ایک بڑا بحری بیڑا اور فوجی گروپ ایران کی جانب روانہ ہو رہا ہے، لیکن وہ دعاگو ہیں کہ اس طاقت کو استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔ صدر ٹرمپ نے سفارتی دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ فوجی حملے سے قبل تہران کو ایک آخری موقع دینا چاہتا ہے۔
دوسری جانب، ایران نے امریکی دھمکیوں اور بحری بیڑے کی روانگی پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں خاموش نہیں رہا جائے گا۔ ایرانی عسکری حکام نے براہِ راست امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اور سمندر میں موجود طیارہ بردار جہاز ان کے نشانے پر ہوں گے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنی سالمیت کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے کر دیے ہیں، جہاں ایک طرف امریکی صدر 'میک اے ڈیل' (معاہدہ کرو) کی پیشکش کر رہے ہیں تو دوسری طرف فوجی دباؤ بڑھا کر تہران کو دفاعی پوزیشن پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


0 Comments