ایران کا میزائل کم بیک: 'سیچوریشن اٹیک' اور اسرائیل کا دفاعی خوف
ایرانی میزائل سسٹم کےمتعلق ایک حیران کن رپورٹ سامنے آئی ہے۔۔۔۔۔۔اسرائیلی چینل13 نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی تعداد اسی سطح پر واپس ہو گئی ہےجو آپریشن رائزنگ لائن سے پہلے کی تھی۔۔
آپریشن رائزنگ لائن(Rising Line) سےپہلےایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا جو ذخیرہ تھاوہ خطے میں سب سے بڑا تھا اور اس کی تعداد 3 ہزار سے 35 سو کی تھی۔۔
اس کا مطلب ہے کہ ایران نے جون 2025 کے حملوں میں استعمال ہونے والے میزائلوں کی کمی کو فاسٹ ٹریک پروڈکشن کے تحت پورا کر لیا ہے۔۔۔۔۔ماہرین کیا کہتے ہیں کہ اتنی جلدی پروڈکشن ہوسکتی ہے؟
اگر یہ اسرائیلی چینل کا دعوی درست ہے تو واقعی حیران کن چیز ہے۔۔۔۔۔امریکہ اتنے میزائلوں کے ذخیرے کے ہوتے ہوئے حملہ نہیں کرے گا اور اگر یہ ذخیرہ بن گیاہےتو ایران کیلئےبڑی خوشخبری کی بات ہےکیونکہ اس صورت میں ایران اسرائیل پر سیچوریشن اٹیک (Saturation Attack) کرےگا۔۔
ایک ساتھ کئی میزائل داغ دیئے جائیں گے، جس سے ائیرڈیفنس سسٹم الجھ جائےگا۔۔
ائیر ڈیفنس سسٹم کا جب دماغ کام نہیں کرتا تو وہ کہتا ہے۔ "مسات توں ٹپ ونج ساڈی خیر اے "اور اس کا ایران بہت زیادہ فائدہ اٹھائے گا۔۔
اگر ایسا نہیں ہے تو اسرائیلی امریکہ کو حملے کے لئے اکسا رہے ہیں۔ویسے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کہیں روس نے یوکرین جنگ میں ایرانی ڈرونز کے بدلے میں ایران کو میزائل ٹیکنالوجی اور استعال ہونےوالے پرزوں کی فراہمی میں مدد کی ہو،جس سے ایران نے اپنا ذخیرہ دوبارہ ممکمل کرلیا ہو۔۔
ایرانی میزائلوں میں قادر اور شہاب3 کا فاصلہ13سو سے2ہزار کلومیٹر تک کا ہے اور یہ میزائل اسرائیل کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔۔۔۔خیبر 4 کا فاصلہ2ہزار کلو میٹر ہے،یہ ایران کا سب سے خطرناک میزائل ہےجو 15سو کلوگرام وزنی وار ہیڈ لےجاسکتا ہے۔۔
اس کے بعد فتاح1اور 2 (Hypersonic) ہیں، اس کو کوئی ائیرڈیفنس سسٹم نہیں روک سکتاچاہے،امریکی پیٹریاٹ ہو یا اسرائیلی ایرو سیریز ہو،پھر حاج قاسم میزائل کا فاصلہ 14 سو کلو میٹر ہےاسکی خاص بات یہ ہے کہ اسی کی وجہ سے اسرائیلی و امریکی ائیر ڈیفنس سسٹم کے اانٹرسیپٹر میزائل کہتےہیں کہ کاکا توں لنگ جا ساڈی خیر اے۔۔
یہ وہ میزائل اورسٹوڈنٹس ہے جو کلاس میں اساتذہ کو چکمہ دیتا ہے۔


0 Comments