گلف میں امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ: جنگ کے 30 دن
گلف کے تپتے ہوئے صحرا اور سمندر اس وقت ایک ایسی تاریخی تبدیلی کے گواہ بن رہے ہیں جس نے دہائیوں پر محیط عالمی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری اس جنگ کو 30 دن مکمل ہو چکے ہیں، اور یہ تیس دن محض عسکری ٹکراؤ نہیں بلکہ خطے کی "ڈی-امریکنائزیشن" کا نقطہ آغاز ثابت ہوئے ہیں۔ ایران نے ایک انتہائی نپی تلی حکمت عملی کے تحت جہاں میدانِ جنگ میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا، وہی معاشی محاذ پر پیٹرو ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کرتے ہوئے تیل کی ادائیگی چینی کرنسی 'یوآن' میں طلب کر لی ہے۔ یہ قدم محض ایک مالیاتی فیصلہ نہیں بلکہ ڈالر کے اس طلسم کو توڑنے کی کوشش ہے جس نے طویل عرصے سے گلف کو واشنگٹن کے زیرِ اثر رکھا ہوا تھا۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں اب یہ جنگ صرف ایران کا ہدف نہیں رہی، بلکہ روس اور چین کے سٹریٹجک مفادات بھی اس سے جڑ چکے ہیں، جو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے مکمل خاتمے کے خواہاں ہیں۔
اس وقت امریکہ دفاعی طور پر انتہائی دباؤ کا شکار نظر آتا ہے جہاں اس کے 13 سے زائد فوجی اڈے تکنیکی طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں اور جدید فضائی بیڑے مسلسل نشانہ بننے کی وجہ سے اپنی برتری کھو رہے ہیں۔ ایران کی جوابی کارروائیوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اب صرف دفاع تک محدود نہیں؛ گزشتہ جمعہ کو اپنی صنعتی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا بدلہ ایران نے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں امریکہ و اسرائیل سے منسلک ایلومینیم کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر لیا۔ اتوار کا دن مزید بھاری ثابت ہوا جب جنوبی اسرائیل کے علاقے بئیر شیبا (Beersheba) میں ایک بڑے کیمیکل انڈسٹریل کمپلیکس کو میزائل حملوں سے دہلا دیا گیا، جس نے اسرائیلی دفاعی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ حوثی گروپ اس پورے منظر نامے میں ایک کلیدی مہرے کے طور پر ابھرا ہے، جس کا بنیادی کام اسرائیل کے دفاعی ڈھانچے کو مسلسل الجھائے رکھنا اور اسے کمزور کرنا ہے۔
اگرچہ پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان سفارتی رابطے تیزی سے جاری ہیں اور امن کی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں، لیکن زمینی حقائق کسی فوری جنگ بندی کی نوید نہیں دے رہے۔ ایران اور روس کا موقف واضح ہے کہ جب تک امریکی افواج کے انخلا کا ٹھوس شیڈول سامنے نہیں آتا یا امریکہ کو واضح تزویراتی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، یہ محاذ گرم رہے گا۔ گلف کا نقشہ اب تبدیل ہو رہا ہے، جہاں طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہا ہے، اور تیس دن کی یہ جنگ مستقبل کی اس نئی دنیا کا پیش خیمہ بن چکی ہے جہاں امریکی اجارہ داری کا سورج غروب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔


0 Comments