فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے گفتگو: ’آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امن مذاکرات میں بڑی رکاوٹ‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ اس گفتگو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
ذریعے کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر غور کرنے کا یقین دلایا۔ یہ ٹیلی فونک گفتگو اس وقت ہوئی جب پاکستانی آرمی چیف ایران کے تین روزہ سرکاری دورے پر تھے اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستانی فوج کے سربراہ نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نہ صرف عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کی راہ میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس موقع پر امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جن میں نائب صدر جے ڈی وینس، سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور دیگر شامل تھے۔
یہ پیش رفت حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی جہازوں کی روک تھام کے واقعات بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "فینٹاسٹک" قرار دیا تھا اور ایران سے متعلق بات چیت میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا تھا۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاہم ابھی تک اس گفتگو کے نتیجے میں کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے اور امریکی ناکہ بندی اپنی جگہ موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ بات چیت اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے جس سے خطے میں استحکام آ سکتا ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور فوجی قیادت کی سفارتی سرگرمیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

0 Comments