اقوامِ متحدہ کے سربراہ کی دہائی: کیا دنیا 'قانون کی حکمران چھوڑ کر 'جنگل کے قانون' کی طرف بڑھ رہی ہے؟
اقوامِ متحدہ کا آخری وارننگ! کیا ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں صرف طاقتور کا سکہ چلے گا اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے دنیا کو 'جنگل کے قانون' سے ڈرا دیا! ان کا کہنا ہے کہ عالمی قوانین کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے اور دنیا ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے......۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بار پھر عالمی برادری کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت 'قانون کی حکمرانی' کے بجائے 'جنگل کے قانون' کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات، معاشی دباؤ اور بڑی طاقتوں کی من مانیوں نے عالمی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ گوتریس کے مطابق، جب طاقتور ممالک اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے بین الاقوامی چارٹر اور انسانی حقوق کے اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، تو اس کا سب سے زیادہ نقصان کمزور ریاستوں اور عام شہریوں کو پہنچتا ہے۔
اس سنگین انتباہ کا براہِ راست اشارہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے مجوزہ ادارے 'بورڈ آف پیس' کی طرف بھی دیکھا جا رہا ہے، جسے بہت سے ماہرین اقوامِ متحدہ کی اہمیت ختم کرنے کی ایک منظم کوشش قرار دے رہے ہیں۔ انتونیو گوتریس کا ماننا ہے کہ اگر عالمی تنازعات کے حل کے لیے کثیر الجہتی اداروں (جیسے اقوامِ متحدہ) کو بائی پاس کر کے 'پے ٹو پلے' (پیسے دو اور رکن بنو) جیسے کلب بنائے گئے، تو دنیا میں انصاف کے بجائے طاقت کی حکمرانی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ غزہ، یوکرین، سوڈان اور میانمار جیسے خطوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام ختم ہوتا جا رہا ہے، اور عالمی برادری ان جرائم پر جوابدہی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ 'جنگل کا قانون' صرف جنگوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ معاشی جبر اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل میں بھی نظر آتا ہے۔ جب بڑی طاقتیں عالمی معاہدوں سے دستبردار ہوتی ہیں یا غریب ممالک کو معاشی طور پر دیوار سے لگاتی ہیں، تو وہ دراصل اس عالمی نظم کو تباہ کر رہی ہوتی ہیں جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کریں اور انسانی حقوق کو سیاسی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اگر عالمی رہنماؤں نے فوری طور پر ہوش کے ناخن نہ لیے، تو انسانیت ایک ایسے اندھیرے دور میں داخل ہو جائے گی جہاں صرف وہی زندہ بچے گا جو طاقتور ہوگا۔

0 Comments