Basant 2026

 نڑے، ڈور لگانے کے اڈے، گِٹھ، پِنی، پِنا، چرخی



پتنگ بازی کے لیے پتنگ اور ڈور ہی بنیادی اجزا ہیں۔ ڈور پتنگ یا گُڈے کے سائز کے علاوہ ہوا کی شدّت کے مطابق منتخب کی جاتی۔ مثال کے طور پر مناسب ہوا میں ڈیڑھ تاوا یا ساڑھ اڑانے کے لیے 5 نمبر اچھی ڈور خیال کی جاتی تھی لیکن اگر ہوا بہت تیز ہوتی تو پھر اس کے ٹوٹنے کا خدشہ ہوتا اس لیے 5 نمبر کی نسبت موٹی 2 نمبر ڈور استعمال کی جاتی۔ پتنگ بازی کے لیے ڈور حاصل کرنے کے دو ہی طریقے تھے، پہلا لگی لگائی ڈور خریدنا اور دوسرا خود ڈور لگوانا۔
خود ڈور لگوانے کا عمل دھاگہ خریدنے سے شروع ہوتا جسے لاہور میں عام طور پر ’نڑا‘ یا ’پِیس‘ کہتے تھے۔ ایک نڑے میں ڈھائی گوٹ دھاگہ ہوتا تھا اور دو نڑے مل کر پانچ گوٹ کے پِنے یا چرخی کی شکل دھارتے۔ ویسے تو ’نڑے‘ ہر علاقے کی بڑی گڈیوں کی دکان سے مل جاتے تھے لیکن ان کا مرکز موچی گیٹ تھا جہاں نا صرف لاہور بلکہ دوسرے شہروں سے بھی شوقین نڑے خریدنے پہنچتے۔ ہمارے زمانے کے مقبول دھاگوں میں 2 نمبر (2 ریچھ)، 5 نمبر (5 ریچھ)، 8 چین، 5 پانڈہ، 7 پانڈہ، ائر بلیڈ، 35 مینار، 60 اوکسلے وغیرہ شامل تھے۔ جے پی کوٹس اور کے بی وغیرہ کے دھاگے پائیدار سمجھے جاتے۔ انڈین دھاگہ سمگل ہو کر لاہور پہنچتا تھا، اس کی بھی اچھی خاصی ڈیمانڈ ہوا
کرتی تھی۔ اپنی پسند کے نڑے خریدنے کے بعد انہیں لگوانے کا مرحلہ آتا۔




پتنگیں بنانے والے استادوں کی طرح ڈور لگانے والے کئی استاد بھی بہت مشہور تھے۔ ان سے کام کرانے کے لیے کئی ہفتے اور بعض اوقات مہینوں پہلے وقت لینا پڑتا تھا۔ ڈور پر لگنے والے ’مانجھے‘ کے اجزائے ترکیبی اور ان کی مقدار، مانجھا لگانے کا انداز اور ’کوٹوں‘ کی تعداد، اسے سکھانے کے اوقات اور پِنا کرنے کے انداز تک، ہر کام انتہائی مہارت کا متقاضی ہوتا۔ اڈے کے دونوں جانب سوراخوں والے ڈنڈے زمین میں نصب کئے جاتے۔ پہلے قریبی ڈنڈوں پر نڑے کھول کر بعد میں انہیں کھینچ کر پچھلے ڈنڈوں پر منتقل کر دیا جاتا۔ اس کی سائنس یہ تھی کہ اس سے دھاگے پر مانجھا بہتر طریقے سے چڑھتا اور ڈور کی مضبوطی میں بھی اضافہ ہوتا۔ کرشن نگر میں میرے چشتیہ ہائی سکول کے سامنے بابا گراؤنڈ اور سڑک کے درمیان ڈور لگانے کا اڈہ ہوا کرتا تھا۔ گراؤنڈ کے سامنے گرلز کالج سے پہلے یہاں کمرشل پلازہ بنانے کا پلان تھا جسے اہل علاقہ نے رکوایا۔ جب کمرشل پلازہ کے لیے پہلی عمارت گرائی گئی تو یہ اڈہ اس کی دیوار کے ساتھ منتقل ہو گیا۔ پِنا کرنا بہت زیادہ مہارت کا کام تھا۔ پلاسٹک کا ایک بڑے سائز کا گیند لے کر اس پر اخبار چڑھایا جاتا پھر اس پر پہلے ڈور کا جال بنایا جاتا کیونکہ اخبار پر ’پیڑھی‘ نہیں ہو سکتی تھی۔ جال کے اوپر پیڑھیاں بنانے کا عمل شروع ہوتا۔ کبھی کبھی اس گیند میں ’قینچہ‘ ڈال دیا جاتا اور پیڑھی کے ہر چکر پر گیند سے اس کی مدُھر آواز نکلتی۔ پِنا کرنا ہی نہیں پیچے کے دوران پکڑنا بھی عام آدمی کے بس کا روگ نہیں تھا جس کا ہم اگلی کسی قسط میں تفصیل سے ذکر کریں گے۔
چرخی کا رواج عام ہونے سے پِنا کرنے اور پکڑنے والے دونوں کردار قصہِ ماضی بن گئے۔ پنے کی نسبت چرخی کرنا آسان تھا، بعد کے سالوں میں چرخی کرنے کی مشین بھی آ گئی جس سے یہ کام مزید آسان ہو گیا۔ چرخی نے اتنی آسانی پیدا کر دی کہ اب پتنگ بازی کے لیے دو بندوں کی ضرورت ختم ہو گئی، لوگ چھت پر کسی جگہ چرخی پھنسا کر یا ایک ہاتھ میں خود چرخی پکڑ کر بھی پیچے کر لیتے تھے۔ ڈور لگتے دیکھنا ہم بچوں کے لیے ایک دلچسپ تجربہ ہوتا لیکن اس میں ایک مفاد بھی پنہاں تھا۔ عام طور پر پِنا کرنے کے بعد کاریگر ڈور کی آخری ’تند‘ توڑ کر زمین پر پھینک دیتا اور ہم بچے اسی کے انتظار میں ہوتے۔ جیسے ہی یہ زمین پر گرتی، ہم لپک کر زیادہ سے زیادہ ڈور سمیٹ لیتے۔ ظاہر ہے اس موقع پر تلخ کلامی سے بات بڑھتی ہوئی کبھی کبھار چپیڑوں تک پہنچ جاتی تھی۔ بعد میں کاریگروں نے اس آخری ’تند‘ کی گِٹھیں اور چھوٹی پِنیاں بنا کر فروخت کرنا شروع کر دیں۔
بابا گراؤنڈ والے اڈے کے علاوہ ساندہ روڈ پر راوی ماڈل سکول کی گلی کے باہر، چوبرجی سے سمن آباد کی جانب جاتی پونچھ روڈ پر، آؤٹ فال روڈ پر گھوڑا ہسپتال کی دیوار کے ساتھ، گورنمنٹ کالج سے اردو بازار کی طرف جانے والی سڑک پر، ٹیکسالی گیٹ سے بھاٹی چوک تک سڑک کے ساتھ ساتھ، موہنی روڈ پر گورا قبرستان کے اندر، موری گیٹ تندوروں والی گلی کے قریب، کیمرہ مارکیٹ سے پرانے ناز تھیٹر کی جانب جاتی سڑک پر، شاہی قلعہ کی بیرونی دیوار کے ساتھ ٹائر مارکیٹ، علی پارک کے پاس، پرانے لاہور کی بیرونی حدود کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر بھی ڈور کے اڈے تھے۔ ان کے علاوہ بھی لاہور کے کئی علاقوں میں ڈور لگانے کا اہتمام موجود ہوتا۔ ٹیکسالی کے باہر استاد گوشی اور گورا قبرستان موہنی روڈ میں استاد سوہنی کے اڈے بہت مشہور تھے۔ آپ کو لاہور میں لگنے والے جو اڈے یاد ہیں ہمیں اس پوسٹ کے کمنٹس میں ضرور بتائیے گا۔ ان اڈوں سے پِنے اور چرخیاں لگوا کر گھر لے جاتے ہی پیچ شروع نہیں کئے جاتے تھے۔ اس سے پہلے ایک اور دلچسپ مرحلہ انہیں دھوپ لگوانے کا ہوتا تھا۔ یار دوستوں کو پتہ چل جاتا کہ مال پہنچ چکا ہے آج دھوپ لگوانی ہے تو سارے چھت پر اکٹھے ہو جاتے، زمین پر چادر بچھائی جاتی، ایک ماہر باری باری پِنے یا چرخیاں نکالتا، پِنا آدھا اخبار میں ہی رہتا اور تیز دھوپ تلے مناسب وقت کے بعد باقی نصف کا رخ سورج کی جانب موڑ دیا جاتا۔ فروٹر، مونگ پھلی اور چائے وغیرہ اس ایونٹ کی لازمی سوغاتیں تھیں۔ پنے یا چرخی کے افتتاح کے موقع پر ڈور کا سرا تلاش کرنا بھی ایک کام ہوتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ جو ڈور لگوانے یا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، وہ اپنا شوق کیسے پورا کرتے تھے؟
اس سوال کا جواب ہے ڈوریں ’لُوٹ‘ کر۔ ڈور لوٹنے کا ایک ہی ذریعہ تھا اور وہ تھا دوسروں کا پیچا۔ پیچے کے دوران ہی چھتوں اور پارکوں میں بچے ڈور پر نظریں جما لیتے۔ چھت والوں کی دعا ہوتی ہے کہ جس پتنگ کی ڈور ان کی چھت پر ہی وہ کٹے۔ پتنگ کٹنے کے بعد جیسے ہی ڈور چھتوں پر گرتی، لوٹ مار شروع ہو جاتی۔ شکاری پیچے کے دوران مسلسل ڈور پر نظریں جمائے رکھتے اور جیسے ہی پتنگ کٹتی کئی ندیدے ’گانٹی‘ ڈال کر اسے جلدی اپنے ہاتھ میں کر لیتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کٹی ہوئی ڈور نے ان کی گانٹی ہی کاٹ دی یا گانٹی نے کٹی ہوئی ڈور کو کاٹ ڈالا جس سے ان کے حصے کچھ نہ آتا۔ گانٹی ڈالنے کی یہ غیر آئینی کارروائی پیچے کے دوران بھی ڈال دی جاتی تھی۔ جو بچے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر یہ واردات ڈالتے، پیچے والا اس کی چھت پر جا کر اس پر ہاتھ سیدھا کرتا کیونکہ گانٹی ڈلنے سے اس کا پیچا خراب ہو جاتا اور اکثر کٹ بھی جاتا۔




کٹی ہوئی ڈور کی لوٹ مار کے دوران جس کی پتنگ کٹی ہوتی وہ بعض اوقات ڈور لوٹنے والے کو ’چِیرا‘ بھی دے دیتا۔ اس بے رحم ٹیکنیک کا تفصیلی ذکر ہم آگے چل کر کریں گے۔ لوٹے ہوئے مال غنیمت کو محفوظ کرنے کے دو طریقے تھے، ایک گِٹھ اور دوسرا پِنی۔ گٹھ کرنا خاص مہارت کا متقاضی تھا ورنہ اسے کھولے ہوئے ’گُنجل‘ پڑنے سے ڈور ضائع ہونے کا خدشہ رہتا۔ گٹھیں جب زیادہ ہو جاتیں تو کاغذ کا چھوٹا سا گیند بنا کر اس پر لپیٹ دی جاتیں۔ جیسے جیسے لوٹی ہوئی ڈوروں کی مقدار بڑھتی، ویسے ویسے اس رنگ برنگی پِنی کا سائز بھی بڑھتا جاتا۔ بڑے لڑکے باریک اور موٹی ڈوروں کی الگ الگ پنیاں بنا لیتے تھے۔ چھوٹے بچوں کو سِدھیاں اور پُٹھیاں دی ڈور کا کا پتہ نہیں چلتا تھا لیکن ان سے شرلے اور چھوٹی پریاں اڑائی جا سکتی تھیں اور ان بچوں کی دوڑ بھی انہی تک ہوتی تھی۔ کائنات کا شاید ہی کوئی ماں باپ ہو جو چھوٹے بچوں کو گڈیاں اڑانے کی اجازت دیتا ہو اس لیے اسے سرانجام دیتے سارے ایس او پیز واردات والے فالو کئے جاتے۔ انہی میں نیچے جانے سے قبل لوٹی ہوئی ڈور کی گٹھیں اور پنیاں ٹھکانے لگانا بھی شامل تھا۔ انہیں چھپانا لاش ٹھکانے لگانے سے آسان نہ تھا۔ چھت پر پڑے سامان، اینٹوں کے نیچے یا سٹور وغیرہ محفوظ مقامات سمجھے جاتے۔ کئی مرتبہ یہ اثاثہ چوری بھی ہو جاتا، سٹور وغیرہ سے اگر والدین کے ہاتھ لگ جاتا تو قسمت میں لکھی چپیڑیں ہاتھ پر لکیروں کی طرح منہ پر نظر آنے لگتیں۔

Post a Comment

0 Comments