ٹرمپ کا 'بورڈ آف پیس' اور بھارت کا خوف: کیا مسئلہ کشمیر عالمی شکنجے میں آنے والا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے 'بورڈ آف پیس' (Board of Peace) نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک طرف پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں، تو دوسری طرف بھارت اس تقریب سے غائب رہا۔بھارت کو ڈر ہے کہ ٹرمپ کی 'ثالثی' کا شوق کہیں مسئلہ کشمیر کو دوبارہ عالمی ایجنڈے پر نہ لے آئے۔ کیا یہ بورڈ واقعی امن لائے گا یا یہ صرف طاقتوروں کا ایک مہنگا کلب ہے جہاں انسانی حقوق کی کوئی جگہ نہیں؟
عالمی سیاست کے افق پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے مجوزہ ادارے 'بورڈ آف پیس' نے ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا ہے جس نے نئی دہلی سے لے کر اقوام متحدہ کے ایوانوں تک کھلبلی مچا دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دنیا کے 20 اہم رہنماؤں نے ڈیووس میں اس بورڈ کے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں، بھارت کی پراسرار خاموشی اور تقریب سے غیر حاضری نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ بھارتی سفارتی حلقوں اور میڈیا میں یہ خوف شدت سے پایا جاتا ہے کہ ٹرمپ کا یہ نیا کھلونا دراصل مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر گھسیٹنے کا ایک نیا جال ہو سکتا ہے۔ 'دی ہندو' جیسے بڑے بھارتی اخبارات نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی 'عالمی امن پسند' بننے کی تڑپ انہیں کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کرنے پر اکسا سکتی ہے، اور اگر بھارت اس بورڈ کا حصہ بنتا ہے تو اسے مستقبل میں کسی بھی بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی یا امریکی مداخلت پر اعتراض کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارت کی ہچکچاہٹ کی ایک بڑی وجہ ٹرمپ کا وہ غیر متوقع مزاج ہے جس کے تحت وہ مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، جسے نئی دہلی ہمیشہ اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب اس بورڈ کی حقیقت محض امن تک محدود نظر نہیں آتی بلکہ اسے اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر ایک ایسے 'خصوصی کلب' کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے خود منصف بن کر بیٹھے ہیں۔ اس بورڈ کے چارٹر میں انسانی حقوق کا کہیں ذکر تک نہیں، جو کہ روس اور چین جیسے ممالک کے لیے کسی خوشخبری سے کم نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بورڈ کی مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی بھاری فیس رکھی گئی ہے، جس نے اسے 'پیسے دو اور رکن بنو' کے فارمولے پر مبنی ایک عالمی کارپوریٹ ادارہ بنا دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس بورڈ میں ولادیمیر پیوٹن اور بنجمن نیتن یاہو جیسے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا ہے جن پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں، جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ یہ ادارہ مظلوموں کو انصاف دلانے کے بجائے طاقتوروں کے جرائم پر پردہ ڈالنے کا ایک نیا ذریعہ ثابت ہوگا۔
اس بورڈ کا اصل مقصد بظاہر غزہ کے معاملات کو سنبھالنا بتایا گیا ہے، جہاں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایک ایسے 'نئے غزہ' کا خواب دکھا رہے ہیں جس میں بلند و بالا عمارتیں اور سیاحتی ساحل تو ہوں گے لیکن اس کے انتظامی بورڈ میں کوئی ایک بھی فلسطینی شامل نہیں ہوگا۔ ٹرمپ اس بورڈ کے تاحیات چیئرمین کے طور پر وسیع اختیارات کے حامل ہوں گے، جس کا مقصد اقوام متحدہ جیسے کثیر الجہتی اداروں کو کمزور کر کے ایک ایسی 'یک قطبی دنیا' قائم کرنا ہے جہاں صرف واشنگٹن کا حکم چلے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون جیسے رہنماؤں نے جب اس کلب کا حصہ بننے سے انکار کیا تو ٹرمپ نے فوراً فرانسیسی مصنوعات پر ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دے دی، جو اس ادارے کے پیچھے چھپی معاشی زبردستی کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارت اس وقت ایک انتہائی مشکل دو راہے پر کھڑا ہے؛ اگر وہ اس بورڈ میں شامل ہوتا ہے تو کشمیر پر اپنی روایتی خود مختاری کھونے کا خطرہ ہے، اور اگر وہ انکار کرتا ہے تو اسے ٹرمپ کے معاشی غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ 'بورڈ آف پیس' عالمی امن کے لیے نہیں بلکہ عالمی نظام کو ٹرمپ کے رنگ میں رنگنے کے لیے بنایا گیا ہے، جہاں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی جگہ صرف طاقت اور سودے بازی کی اہمیت ہوگی۔



0 Comments